دفعہ صرف یہ آیت پڑھیں ہر کوئی آپ کی بات مانے گا جیسا چاہو گے انشا ویساہی ہوگا

ناظرین آج ہم آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتائیں گے جو بہت ہی آسان ہیں جس کے کرنے سے ہر کوئی آپ کی بات مانے گا اور مرضی کے مطابق ہو گا ۔وظیفہ کے بارے میں بتانے سے پہلے ایک بات یاد رہے تمام قرآنی ویظائف کا شیطانی جادو ساے موازنہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قر آنی وظائف نورے رحمان اور جادوثفتے شیطان ہے۔رحمان اور شیطان کی جنگ میں فتح حق یانی اللہ کے قدرتے قانون کی ہوتی ہے ۔شیطان کا جاودوجتنا بھی تیز ہو آخر قرآن پاک کی برکات سے زائیل ہو جاتا ہے یہاں پر یہ باتیں کرنے کا مقصدمکمل ویڈیودیکھنے کے لیے نیچے ویڈیوپرکلک کریں

یہ تھا۔قرآنی آیات کا استعمال اچھائی کے لیے کرنا چاہیے بڑائی کے لیے نہیں جو لوگ قرآنی آیت سے جلد اور لازمی توقعہ رکھتے ہیں۔وہ یہ بات بھول جاتے ہیںتمام قرآنی آیت میں انسان کی حاجت اور مقصد میں پورا ہونے میں اس کے عمال اور مقصد کا جائز ہونا لازمی شر ط ہے ۔ مثال کے طور پر کوئی بھی شخص اپنے دوست آفیسریا کسی سے بھی اپنی بات منوانا چاہتا ہے ۔ تو وہ بات کس حد تک جائز ہے۔اور اس کا مقصد کتنا نیک ہے۔اگر بات جائز ہے مقصد نیک ہے ۔اور بات منوانے والا شخص نیک ہے ۔تو اللہ تعالی ہر حالت میں اس کی بات کو اس شخص سے منوائے گا۔دوستو اب آپ سمجھ گئے ہو گے اس وظیفے دارومدارانسان کے کام اور اس کے نیک مقصد پر منصر کرتا ہے ۔اس وظیفے کو کوئی بھی شخص نیک حاجت اور اچھے مقصد کے لیے کرے گا تو کامیابی لازم حاصل ہو گی ۔اگر کامیابی نہ ہو تو مایوس ہو کر اس وظیفے کو نہ چھوڑیں۔ایک سے دو مرتبہ کوشش کریںاگر اس کے باوجود بھی حاجت پوری نہ ہو تو اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کریں کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ اس وظیفے کی اجازت ہر خاص عام کو ہے لیکن نیک مقصد کے لیے اوروظیفہ یہ ہے ۔ سب سے پہلے نماز کی پابندی کریں اور پھر یہ وظیفہ کسی کے نقصان کی نیت سے نہیں کرناوظیفہ کرنے سے پہلے باوضو ہو جائیں۔ سب سے پہلے درود شریف پڑھیں پھر پندرہ دفعہ یہ آیت پڑھیں۔آیت اوپر ویڈیو میں دیکھیں

ینما ہولٹن ایک صحافی ہیں، ان کا تعلق ڈنمارک سے ہے۔ چند سال پہلے کسی نے ان کی نازیبا تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کردیں۔ انہیں ان تصویروں کے بارے میں جان کر شدید صدمہ ہوا لیکن اب وہ کچھ کر نہیں سکتی تھیں۔ بقول ان کے، انہیں اِن نازیبا تصویروں پر اعتراض نہیں تھا، بلکہ اعتراض یہ تھا کہ ایسا اُن کی اجازت کے بغیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے خود اپنا بے لباس فوٹو شوٹ کروایا اور تصویریں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کردیں۔ وہ یہ پیغام دینا چاہتی تھیں کہ میرے جسم پر میرا حق ہے، اس سے متعلق میرا فیصلہ ہونا چاہیے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ میری رضامندی کے بغیر مجھے دیکھے یا میری تصویریں اپ لوڈ کرے۔

اینما ہولٹن کے اس ردعمل کو کچھ لوگوں نے پسند کیا تو کچھ نے ناپسند۔ لیکن یہ بات صاف ہوگئی، کہ ’’رضامندی‘‘ کا لفظ اہمیت رکھتا ہے۔ اینما کی کوششوں سے چوری شدہ تصویریں نشر کرنے والی ویب سائٹ کو بلاک کردیا گیا۔’رضامندی‘‘ اور ’’انکار‘‘ کے احترم پر ایک جاندار فلم ’’پنک‘‘ بالی ووڈ میں بھی بنائی گئی۔ میری رائے میں کالج کے طالب علموں کو وہ فلم ضرور دکھانی چاہیے۔دراصل ذاتی زندگی کے واقعات اور اس سے متعلق فیصلوں پر انسان کا پورا حق ہے۔ یہ ہر انسان کا فیصلہ ہے کہ وہ ذاتی زندگی کے کن حصوں کو، کس حد تک، دوسروں کے سامنے رکھنا چاہتا ہے؛ اور کن حصوں کو وہ خود تک محدود رکھنا پسند کرتا ہے۔ ذاتی زندگی پر تبادلہ خیال کےلیے بہترین تعلق اور باہمی اعتماد درکار ہوتا ہے۔ اس اعتماد کا تقاضا ہے کہ معلومات کو اپنے تک محدود رکھا جائے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی کے گھر جاؤ تو اپنی آنکھیں، اور اُس کے گھر سے نکلو تو اپنے ہونٹ قابو میں رکھو تاکہ گھر کی عزت اور راز محفوظ رہیں۔بدقسمتی سے انسانی فطرت میں چسکے کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس چسکے کا لطف تب دگنا ہو جاتا ہے جب ہم دوسروں کی ذاتی زندگی پر بات کرتے ہیں۔ کبھی کسی محلے میں ہیئر ڈریسر شاپ پر بیٹھ جائیے، وہاں اکثر گھروں کے اندر کی گفتگو ہوتی ہے۔ ایسی خبریں لا کر دینے والے کو بھی خاص مقام حاصل ہوتا ہے۔ جیسے، فلاں کی بیٹی کا فلاں کے ساتھ چکر ہے، فلاں نے اس طرح بھاگ کر شادی کی، فلاں آج پھولوں کی دکان پر تھا، وہ شاید فلاں سے ملنے جا رہا ہے، چلو پیچھا کرتے ہیں وغیرہ۔

یہ چسکا باقی دنیا میں بھی موجود ہے، خاص طور پر فنکاروں اور شوبز کی خبریں ایسے ہی چسکے والی ہوتی ہیں۔ لیکن شاید ان لوگوں کے پاس ذاتی زندگی سے ہٹ کر بھی بہت سے موضوعات ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ افراد کی ذاتی زندگی پر بات کرنا پسند نہیں کرتے یا دوسروں کی نسبت کم پسند کرتے ہیں۔

ایک رائے ہے کہ سماجی لوگوں کی ذاتی زندگی نہیں ہوتی، وہ رول ماڈل ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم ان کی زندگی کے کسی بھی حصے کو جھانک کر دیکھ سکتے ہیں، اس پر بات کر سکتے ہیں، مداخلت کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے ایسا ہرگز نہیں۔ ان کا بھی حق ہے، وہ خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا اور کتنا بتانا ہے۔ اگر حد مقرر نہیں ہوگی تو بات بیڈ روم اور باتھ روم تک چلی جائے گی۔ پھر الزامات لگانا آسان ہوگا۔ اِس طرح سماجی فرائض سرانجام دینے والے اپنی ساری صلاحیتیں دفاع کرنے اور عوام اپنا سارا وقت تاک جھانک میں گزاریں گے۔

آپ عمران خان کی شادی ہی کو لے لیجیے۔ ان کے شادی کرنے یا نہ کرنے سے شاید ان کے بچوں، قریبی عزیزوں یا دوستوں کو تو فرق پڑتا ہوگا لیکن بطور سیاستدان دیگر لوگوں پر اپنے عوامی اقدامات سے اثر انداز ہوں گے۔ اگر اعتراض ہی کرنا ہے تو بے شمار نکات وہاں سے مل جائیں گے، چار دیواری میں جھانکنے کی ضرورت نہیں۔

واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ خان صاحب اپنی شادی پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی اس کا اعلان کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ایک صحافی نے عوامی چسکے کےلیے گھر کے اندر کی معلومات حاصل کرلیں اور انہیں باہر نشر کر دیا۔ میری دانست میں اس صحافی کو سخت سزا ملنی چاہیے۔

لیکن بات خان صاحب تک نہیں رکی، مریم نواز پر بدترین الزامات کی بارش ہوگئی۔ ان کی کردار کشی کی جاتی رہی، جو اب تک جاری ہے۔ مریم اپنی ذاتی زندگی میں جو بھی کریں، اس پر بات نہیں ہونی چاہیے۔ اپنے چسکے کےلیے الفاظ کی قینچی سے کسی خاتون کو بے لباس کرنا معاشرے کی ذہنی پسماندگی کی علامت ہے۔ اگر مریم پر اعتراض کرنے ہیں تو ان کے سیاسی فیصلوں میں بہت سے ثقم موجود ہیں۔ ایسے میں مجھے منٹو کے الفاظ ’’ننگی تہذیب‘‘ یاد آتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ منٹو کو گزرے کئی سال بیت چکے ہیں۔ تہذیب اب بھی ویسی کی ویسی ’’بے لباس‘‘ ہے۔

چند دوستوں کی رائے میں ذاتی زندگی پر بات کرنا مناسب ہے، کیونکہ امریکا میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ ایسے دلائل سے میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں۔ ہم اپنی پسند کی مثالیں تلاش کرکے اصلاح سے انکاری ہوجاتے ہیں۔اگر اقلیتوں پر ظلم کا ذکر ہو تو کہا جاتا ہے کہ انڈیا میں بھی ایسا ہورہا ہے۔ دھمکیوں پر احتجاج ہو تو جواب ملتا ہے افغانستان میں بھی ایسا ہورہا ہے۔ مالی بدنظمی پر اعتراض ہو تو چند افریقی ممالک کی مثال مل جاتی ہے۔ لیکن اگر دوسرے ممالک کے کارناموں کا ذکر ہو تو جواب ملتا ہے، ہمارا ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔

لیکن پھر بھی اگر امریکا میں ذاتی معاملات کی بات کریں تو وہاں یہ اجتماعی رویہ نہیں اور تانک جھانک کے خلاف سخت قوانین بھی ہیں۔ اگر الزام جھوٹا ہو تو ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن بالفرض اگر امریکا میں بھی افراد کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت ہوتی ہے تو نہیں ہونی چاہیے۔ یہ قابل تقلید ہر گز نہیں۔

سماجی شخصیات رول ماڈل ہیں لیکن وہاں تک جہاں تک وہ خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کریں۔ کوئی کرکٹر آپ کا رول ماڈل ہوسکتا ہے۔ اس کی کرکٹ دیکھیے،اس سے سیکھیے۔ اگر کوئی سیاست دان رول ماڈل ہے تو سیاسی فیصلوں اور ان کے اثرات کا جائزہ لیجیے، اس کی بنا پر پسند یا ناپسند کا فیصلہ کیجیے۔ کسی اداکار کی اداکاری پسند ہو تو داد دیجیے یا بے داد کردیجیے۔ لیکن ان شخصیات کو ذاتی زندگی جینے دیجیے۔ کس کا افیئر کس کے ساتھ ہے؟ کس کے گھر میں کون آتا ہے؟ کون نہاتا کیسے ہے؟ سوتا کیسے ہے؟ وہ اس پر چھوڑ دیجیے۔لیک ویڈیوز اور تصویروں کا بائیکاٹ کیجیے تاکہ فرد خود فیصلہ کرے کہ کیا سماج کو پیش کرنا ہے، کیا پرائیویٹ رکھنا ہے۔ اگر آپ کو اختلاف ہو تو ایک نظر خود کو ایسی صورتحال میں رکھ کر دیکھ لیجیے۔ ایک لمحے کو سوچیے کہ اگر آپ کی نجی زندگی کا ہر پہلو عوامی ہوجائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *