محرم الحرام میں بعد نماز عصر 33 بار یہ وظیفہ پڑھو

میرے دوستو محرم الحرام کے مہینے میں اگر کوئی بھی میرا بھائی کوئی میری بہن نماز عصر کے بعد 33 مرتبہ إنا لله و إنا لله و إنا إليه راجعون کا ورد کرتا ہے اللہ پاک اسے دنیا میں اسے پانچ فائدے عطا کرتے ہیں اس میں سے سب سے بڑا فائدہ اللہ پاک اس کے غموں کو دورکردیتے ہیں۔ دوسرا فائدہ اللہ پاک غیب سے روزی عطا کرتے ہیں اسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ کہاں سے روزی آرہی ہےغیب سے اللہ پاک اسکی مدد کرتے ہیں۔ تیسرا فائدہ اللہ پاک دلی طور پرایک ایسا سکون اورایک ایسا اطمنان اس کے دل میں نصیب کرتے ہیں مکمل ویڈیودیکھیں نیچے کلک کریں

جو کبھی دولت سے خریدا نہیں جا سکتا اس کی روح ہمیشہ خوش رہتی ہے ہمیشہ وہ پرسکون نظر آتا ہے ہرمعاملے میں اس کے چہرے پرایک عجیب سی مسکراہٹ آتی ہے چوتھا فائدہ اللہ پاک اس کی اولاد کو فرمنبردار بنا دیتا ہے اس کی اولاد اس کا کہنا مانتی ہے پانچواں سب سے بڑا فائدہ ہر کوئی اس کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے کتنا بڑا فائدہ ہے میرے دوستو اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں إنا لله وإنا إليه راجعون کسی خاص موقع پر پڑھا جاتا ہے دوستو اس کی بہت بڑی فضیلت ہے یہ ہر چیز کے غم ہونے پر ہر چیز کے کھونے پر کسی چیز کے چلے جانے پر کسی چیز کے نہ ملنے پر یہ تمام چیزوں کے لئے پڑھا جاتا ہے یہ وہ دعا نہیں کہ جب کوئی فوت ہو جائے تب ہی اس کو پڑھا جائے ہمارے ہاں پاکستان میں ایسے ہی ہے کہ اگر کوئی فوت ہو جائے تو پھر ہی یہ پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ یہ جملہ کبھی پڑھا نہیں ہے جاتا میرے دوستو إنا لله وإنا إليه راجعون کا پڑھنا اپنا معامول بنا لیں محرم میں بھی محرم کے بعد بھی آپ إنا لله وإنا إليه راجعون کا پڑھنا اپنا معامول بنا لیں کوئی مصیبت آئے کوئی پریشانی آئے کوئی بیماری کوئی تکلیف کسی چیز کا کھونا کوئی چیز کا غم ہونا سب پر پڑھیں إنا لله وإنا إليه راجعون اللہ تعالی نے فرمایا صبر کرنے والوں کو بشارت دے دو اب جن جن چیزوں پر صبر ہوتا ہے ان چیزوں پرإنا لله وإنا إليه راجعون پڑھا جا سکتا ہے.

کسی کو چھوٹی بڑی کوئی بھی مصیبت پہنچے تو شرعاً اسے صبر کرنا چاہئے، اور اس پر ثواب کی امید رکھے، اور یہ کہے: “إنا لله وإنا إليه راجعون”، چنانچہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: “کسی بھی تکلیف کے پہنچنے پر مؤمن کیلئے ضروری ہے کہ وہ “إنا لله وإنا إليه راجعون” پڑھنے ، کیونکہ اللہ تعالی نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے، اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کسی بھی مسلمان کو کوئی بھی تکلیف پہنچے، اور اسکے بعد وہ کہے: ” اَللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا “)یا اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر سے نواز، اور مجھے اس کا بہتر نعم البدل عطا فرما (اللہ تعالی اسے اجر سے بھی نوازے گا، اور بہترین نعم البدل بھی عطا فرمائے گا)” مسلم: (918)”انتہی اور ابن ابی شیبہ (26652) میں سعید بن مسیب سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا گیا ہے کہ، انہوں نے کہا: “عمر رضی اللہ عنہ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ” إنا لله وإنا إليه راجعون ” تو ساتھیوں کہنے لگے : امیر المؤمنین! کیا جوتے کا تسمہ ٹوٹنے پر بھی [آپ یہ الفاظ پڑھتے ہیں!] تو انہوں نے وضاحت کی کہ : مؤمن کو پہنچنے والی ہر ناگوار چیز مصیبت ہی ہوتی ہے”

Tags: 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*