دعا آنکھوں سے قبول ہوتی دیکھو گے ادھر تسبیح کی ادھر دعا قبول ہو گئی

دعا آنکھوں سے قبول ہوتی دیکھو گے ادھر تسبیح کی ادھر دعا قبول ہو گئی بس رات کو یہ ایک تسبیح کر لو

جو کہتا ہے اس کی دعا قبول نہی ہوتی دعا قبول ہوتی ہے لیکن اس کو قبول کروانے کے بھی کچھ طریقے ہوتے ہیں کچھ اصول ہوتے ہیں آپ کوآج ایک دعا بتائیں گے جس سے انشاء اللہ آپ کی دعا ظرور قبول ہوگی ایک وظیفہ ہے جس کے کرنےسے آپ کی دعا قبول ہوگی اورآپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ جو کہتا ہےمیری دعا نہی قبول ہوتی مجھے نوکری نہی ہے ملتی انشاءاللہ وہ اس طریقے سے دعا مانگے گا اس کی دعا اللہ ظرور قبول فرمائے گا۔ ہردعا اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہےگناہ گارآدمی مزید ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے ویڈیو پر کلک کرکے ویڈیو دیکھیں

ہو یا بدکار سے بدکار آدمی ہے حتہ کے اللہ کو نہ ماننے والا غیر مسلم ہے اس کی بھی دعا قبول ہوتی ہے دعا ایک عظیم نعمت اور انمول تحفہ ہے ، اس دنیا میں کوئی بھی انسان کسی بھی حال میں دعا سے مستغنی نہیں ہوسکتا ، دعا اللہ کی عبادت ہے، دعا اللہ کے متقی بندے اور انبیا ئے کرام علیہم السلام کے اوصافِ حمیدہ میں سے ایک ممتاز وصف ہے ، دعا اللہ تعالی کے دربارِ عالیہ میں سب سے باعزت تحفہ ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لَیْسَ شَیْءٌ أکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجّلَّ مِنَ الدُّعاء (دعا سے بڑھ کر اللہ تعالی کے یہاں کوئی چیز باعزت نہیں) دعا اللہ تعالی کے یہا ں بہت پسندیدہ عمل ہے ، دعا سے اللہ تعالی کے غصہ کی آگ مدھم پڑتی ہے، دعا اللہ تعالی کی ذا ت پر بھروسہ کی گائیڈ لاین ہے ، دعا آفت و مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے، بلاشبہ دعا اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَلدُّعَاءُ سِلاَحُ الْمُؤمِنِ وَعِمَادُ الدِّیْنِ وَنُوْرُ السَّمٰواتِ وَالأرْضِ (دعا موٴمن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے ، اللہ نے اپنے بندوں کو دعا کی تاکید کی ہے ، اس کی قبولیت کا وعدہ کیاہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صاف صاف اعلان کیا : وَإذَا سَألَکَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَإنِّي قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إذَا دَعَانِ(جب میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں ، تو میں قریب ہوں ، دعا کرنے والاجب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ) یقینا یہ اللہ کا فضل اور کرم ہی ہے کہ بندوں کے ہر عمل سے بے نیازی کے باوجود وہ اپنے ہی سے مانگنے کا حکم کرتا ہے : یَأیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ ھُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِیْد ( اے لوگو ، تم اللہ تعالی کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز، بڑی تعریف والا ہے) سورئہ فاطرمیں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : وَاللّٰہُ الْغَنِيُّ وَأنْتُمُ الْفُقَرَاءُ ( اللہ تعالی بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو ) حدیثِ قدسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کُلُّکُمْ ضَالٌّ الاَّ مَنْ ہَدَیْتُہ فَاسْتَہْدُوْنِيْ اَہْدِکُمْ یَا عِبَادِيْ، کُلُّکُمْ جَائِعٌ الاَّ مَنْ أطْعَمْتُہ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِيْ انَّکُمْ تَخْطَئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَأنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْلَکُمْ ( اے میرے بندے! تم بے راہ ہو؛جب تک میں تمہیں ہدایت نہ دوں ، لہٰذا تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا

اے میرے بندے تم سب بھوکے ہو،سوائے اس شخص کے جسے میں کھلاؤں ، لہٰذا تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندے، تم رات اور دن غلطیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخشنے والا ہوں ، لہٰذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو ، میں بخشش کرنے والا ہوں )۔ یقینا دعا مومن کا ہتھیار ہے ، ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے، دعا مومن کا بہت اہم خزانہ ہے ، دعا عبادت کا مغز ہے( الدعاء مخ العبادة ) لیکن اس کی حقیقت عقلیت پسندوں کی سمجھ میں نہیں آتی؛ جب کہ یہ تو جبلِ ہمالیہ سے کہیں بڑھ کر ٹھوس اور باوزن ہے اور بدیہی اعتبار سے ثابت بھی ہے ، اللہ تعالی کے نادیدہ خزانوں کا عظیم وعمیق ربط دعا سے ہے ، جس کی قبولیت کے مختلف انداز ہیں ، کبھی بعینہ وہی مل جائے ، یا اس کا بدل؛ بل کہ نعم البدل مل جائے ، جو ں کاتوں قبول نہ ہو؛ بل کہ اللہ تعالی حکیم ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں اور وہ انسان کے انجام سے بخوبی واقف ہے؛ چناں چہ اس کے ذریعہ کوئی مصیبت دور کردے ، یا یہ کہ اسے مومن کے لیے بطور توشہء آخرت محفوظ کردیاجائے؛ لیکن دعاکی قبولیت کے ان گونا گوں انداز کو عقلیت پسند ذہن تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے؛ لیکن انھیں یہ پتا ہو نا چاہیے کہ پُرخلوص کوشش اور دعا سے وہ نتائج نکلتے ہیں جن کی عقلی لحاظ سے بالکل امید نہیں ہوتی ۔ دعا کی قبولیت میں بے شمارموانع ہیں، مثال کے طور پر حرام کھانا ، حرام پینا اور حرام لباس زیب تن کرنا ، اللہ کے رسول ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : اَلرَّجُلُ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ أغْبَرَ، یَمُدُّ یَدَہ الٰی السَّمَاءِ، یَارَبِّ، یَارَبِّ، وَمَطْعَمُہ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُہ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأنّٰی یُسْتَجَابُ لَہ ( آدمی لمبا لمبا سفر کرے گا ، پراگندہ حال ، غبار آلود معلوم ہوگا، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے گا، یارب یارب (کہے گا) اور اس کا کھانا حرام ، اس کا پینا حرام ، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہو ئی ہو تو اس کی دعا کہا ں سے قبول کی جائے گی ؟) ایک دوسری حدیث میں ہے: اَطِبْ مَطْعَمَکَ تَکُنْ مُجَابَ الدَّعْوَةِ ( اپنے کھانے کو عمدہ کرو ۔ حلال کھانا کھاؤ۔ تمہاری دعا قبول کی جائے گی)۔ دوسری چیز جو موانعِ دعا میں سے ہے وہ اخلاص کی کمی ہے؛ اس لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہ الدِّیْنَ ( پس اللہ تعالی کو پکارو ،

اسی کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے ) ایک دوسری آیت اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : فَلَاتَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ أحَدًا ( اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تَعْرِفُ إلٰی اللّٰہِ فِیْ الرَّخَاءِ یَعْرِفُکَ فِی الشِّدَّةِ ( اللہ تعالیٰ کو خوش حالی میں یاد کرو اللہ تعالیٰ تم کو سختی میں یادکرے گا ) یعنی یہ کہ جب بندہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے، اس کے حدود کی پاسداری کرتاہے اور خوش حالی میں اس کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے معرفتِ خداوندی حاصل ہوجائے گی اور اللہ تعالی اس کو سختیوں سے بچائے رکھے گا اور حدیث میں ہے : بندہ مجھ سے نوافل کے ذریعہ قربت حاصل کرتاہے تو میں اس سے محبت کرتاہوں ، لہٰذا جب میں اسے محبوب سمجھتاہوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ کچھ مانگتا ہے تو میں اس کو ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں(بخاری شریف )۔ اللہ تعالی غافل کی دعا قبول نہیں کرتا ہے؛ چنا ن چہ مستدرکِ حاکم میں مروی ہے کہ : اُدْعُوا اللّٰہَ وَأنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالإجَابَةِ ( اللہ تعالی سے دعاکرو اور قبولیت کا یقین رکھو)یعنی اللہ تعالی غافل اور لاپرواہ دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتاہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : إنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُلْحِیْنَ فِی الدُّعَاءِ اللہ تعالی دعامیں بہت زیادہ تضرع اور خضوع وخشوع کرنے والے اور بہت زیادہ مانگنے والے کو پسند کرتاہے ۔ دعا عبادت ہے

، ، نجات کا ذریعہ ہے، لہٰذا جو بھی دعا سے اعراض کرے ، اللہ سے نہ مانگے اللہ ان سے ناراض ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ انَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ لیکن اس کے برعکس جو خوب اللہ تعالی سے مانگے گا اس کے سامنے آہ و فغاں اور خشوع وخضوع کرے گا وہ اس دعا کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن میں ہے : اور ان میں سے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوگا آپس میں پوچھتے ہوئے وہ کہیں گے بے شک ہم اس سے پہلے اپنے اہلِ خانہ میں ڈرتے تھے تو اللہ تعالی نے ہم احسان کیا اور گرم ہوا کے عذا ب سے بچالیا، بے شک وہ بہت ہی احسان کرنے والا اور رحم کرنے والاہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اپنے رب کوپکاروگڑگڑاکر اور آہستہ سے ، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور فساد نہ مچاؤزمین میں اس کی اصلاح کے بعد ، اور اسے پکارو ڈرتے اور امید رکھتے ہوئے ، بے شک اللہ تعالی کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت قریب ہے فَلاَ تَیْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ لہٰذا اسی سے سب کچھ ہونے کی لولگائیں، وہی حاجت روا مشکل کُشا ہے، اس کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں اور ہرلمحہ ، ہرپل اسی سے مانگیں ، وہ بہت نوازنے والا اورخوب دینے والا ہے۔ اب ہم آپ کو وظفیہ بتاتے ہیں۔ روزانہ رات کو ایک تسبیح پڑھنی ہے یا عَلِیمُ عَلِّمنِی یا خَبِیرُ اَخبِرنِی یا وَھَّابُ هَبْ لِي من أسرار الدنيا والآخرہ روزانہ اس تسبیح کو پڑھ کر سو جائو جلد انشاء اللہ اللہ تعالی غیب کے نظروں سے کچھ دیکھائیں گے اس عمل کو ظرور کریں اور دوسروں تک بھی شیئر کریں جزاک اللہ خیر

Tags: 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*